Special Thanks & Credit to Honorable
for this credible & historic information.
Facebook Post Link: https://www.facebook.com/sehirrazaqazlbash.qazlbash
Special Thanks & Credit to Honorable
for this credible & historic information.
Facebook Post Link: https://www.facebook.com/sehirrazaqazlbash.qazlbash
شئر کریں ریاست بہاولپور کی تاریخ کی ایک ایسی نایاب کتاب جو عام آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھی کیا آپ نے یہ کتاب پہلے دیکھی ؟
یہ ہے
Punjab State Gazetteer - Bahawalpur State Statistical Tables - 1913
یہ کتاب ہمھاری سحر لائبریری برمنگھم میں محفوظ ہے
میں نے اس کے سینکڑوں صفحات میں سے 1913 کا وہ حصہ نکالا ہے جو ہماری ریاست بھاولپور کی اصل ترقی کی کہانی بتاتا ہے
اس 1913 کی رپورٹ میں کیا لکھا ہے؟ اگر آپ مکمل پڑھیں تو حیران رہ جائیں گے
1 نواب صاحب اس وقت کہاں تھے؟
رپورٹ لکھتی ہے کہ نواب بہاول خان پنجم کا انتقال 1907 میں ہوا اس وقت نواب صادق محمد خان عباسی صرف 3 سال کے تھے (پیدائش 30 ستمبر 1904)
1911 میں وہ دہلی دربار میں بادشاہ انگلستان سے ملے اور جب یہ رپورٹ لکھی جا رہی تھی تو وہ انگلینڈ کے دورے پر تھے
ریاست کا نظام مولوی رحیم بخش C.I.E کی سربراہی میں 4 رکنی کونسل آف ریجنسی چلا رہی تھی
اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ "Lower Sutlej Canal Project" کی منظوری ہو چکی ہے جس پر ریاست کو 3 سے 4 کروڑ روپے خرچ آنا تھا
{ یہ ابھی ابتدائی تخمینہ تھا }
سوچیں 1913 میں 4 کروڑ آج کے اربوں کے برابر تھا یہی وہ نہر ہے جس نے بہاولپور کو آباد کیا
3 بہاولپور کی اپنی ریلوے
آج ہم پاکستان ریلوے کی بات کرتے ہیں لیکن 1910 میں ریاست بہاولپور کی اپنی ذاتی ریلوے تھی جو خانپور سے چاچڑاں تک 23 میل تک چلتی تھی رپورٹ کہتی ہے یہ بظاہر اچھی امید دلا رہی ہے اگرچہ ابھی منافع بخش نہیں
میں نے اس کتاب کی مکمل فہرست کا ترجمہ کیا ہے 1913 میں انگریز ہماری ہر چیز کا حساب رکھتے تھے
آبادی، ذاتیں، مذاہب، پیشے، فصلوں کا رقبہ، گھوڑوں کی افزائش، مزدور کی اجرت، بازار کے بھاؤ، تھانوں کی نفری، جیلیں، اسکول، ڈسپنسریاں حتیٰ کہ شراب اور افیون کی دکانوں کی تعداد تک
یہ صرف ایک فہرست نہیں، یہ بہاولپور کی 1913 کی مکمل تصویر ہے
اس مکمل رپورٹ کو اردو میں لانا بہت محنت طلب کام ہے
یہ تقریبا 123 سال پرانا انگریزی ریکارڈ ہے لیکن شروع کے چند صفحات پہ میں نے یہ محنت صرف اس لیے کی تاکہ ہماری نئی نسل کو پتہ چلے کہ ریاست بہاولپور کتنی ترقی یافتہ اور منظم ریاست تھی
اگر آپ کو میری یہ تحقیق پسند آئی تو شیئر ضرور کریں تاکہ ریاست بھاولپور کے متعلق آگاہی حاصل ہو
سحر رضا قزلباش برمنگھم

No comments:
Post a Comment